283

تورغر بسی خیل

قلم کار عزیز یوسفزئی
تورغر بسی خیل.
گاؤںگیٹوںسےتھاکوٹ جانےوالےڈرائیور قسمت کی گاڑی گاؤں ارنیل میں الٹ گئ چار افراد زخمی.
یہ صرف ایک گاڑی نھیں یہاں آئے روز کوئ کا کوئ واقعہ ہوتا رہتا ہے لیکن حکومت وقت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی
تھاکوٹ سے جدباء تک مین روڈ ھمارے لئے موٹروے کہلاتی ہے لیکن اگر اس پر نظر دوڑائی جائے تو وہ بھی جگہ جگہ پر کڈھوں سے بھری پڑی ہے
پھر اسی طرح پیروشاہ سے اوپر ڈڈہ بانڈہ اور شنگلدار روڈ کا تو DC Torghar اور Dpo Torghar
نے شنگلدار کے دورے پر جاتے ہوئے دیکھی ہوگی وہاں گاڑی تو دور پیدل جاتے ہوئے بھی عجیب لگتاہےایسی خستہ حالت ہے کہ اللہ کی پناہ
ھمارے تورغر کی میں روڈ کس کو کہاجاتا ہے یہ بھی دلچسپ بات ہے
تو سنئیے ھمارے ہاں روڈ کی منظوری ہوتی ہے ایک شاول آتا ہے ساتھ میں ٹھیکیدار اور چند عملہ وہ کام شروع کرتاہےاور شاول والا اپنے مرضی سے جیسے چاہے کھدائی کرکے چلاجاتا ہے ،
سمینٹ یا ریت بجری ایسی کوئ چیز روڈ پر نھیں ڈالی جاتی بس ایک آدھ جگہ پر برائے نام جیسے ھم گھر کو کلر کرتے ہیں توڑی بہت سمینٹ ڈال دیا جاتاہے وہ بھی کوڈبہ وغیرہ یا اوپر کے مٹی پتھر کو روکنا ہوں تب
اور ہاں
ٹھیکیدار صاحب اپنے آپ کو ایک افسر سمجھتا ہے اس سے بات کرنا کوئ آسان کام نہیں کیونکہ اسکے تعلقات جو ہوتے ہے ھیڈ کوارٹر میں یا ایم پی اے ایم این اے سے
اور آخری بات
روڈ پاس کیسے کروایا جاتاہے
وہاں کے ایک ڈرائیور کو پکڑ 1000 یا 500 پکڑادیتے ہے اور وہ گاڑی گزار کر روڈ پاس کردیتا ہے
عوام مرے یا جئیے اس سے کوئ فرق نھیں پڑتا
جس بندے نے ٹھیکہ دیا ہوتا ہے وہ بھول کر بھی نھیں پوچھتا کہ روڈ کیسے بنا ہے یا کم از کم کوئ بندہ معائنے کے لیے ہی بھیجدے
شائد وہ خود بھی ملاہواہوتاہے اسے کیا اسے اسکا حصہ جو ملتا ہے
فنڈ کی منظور ی پھر اسکے منصوبے تک پہنچنے کے مراحل کتنے ٹھیکیدار اور سرکاری لوگ اپنے اپنے حصے رکھتے ہیں یہ الگ موضوع ہے
#معذرت_غصےمیں_مضمون_کچھ_زیادہ_لمباہوگیا

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں