93

استاد اور میوزک شو پر دلائل

پوسٹ کی طوالت کا پیشگی معذرت مگر پوسٹ لازمی پڑھ کر شئیر کرنا تاکہ جواب بروقت مل سکیں
لمحہ فکـــــــــــریہ ………… استاد اور میوزک شو پر دلائل

چھتر میوزک شو اور تعلیمی اداروں کا یوایف ایم کیسز کا عالمی ریکارڈ
استاد ایک محترم وقابل قدر ہستی کے ساتھ ساتھ قوم کو رھنما لیڈر اور جانباز سپاہی دینے والا ھوتا ہے لیکن بد قسمتی سے کچھ اساتذہ بھی اساتذہ کے نام سیاہ داغ ھوتے ہیں آج ایک سرکاری سکول کے استاد کا پوسٹ دیکھا تو دل بیٹھ سا گیا کہ استاد چاھے جتنا بھی میوزک کا شوقین ھو لیکن وہ سرعام اسطرح اظھار کیسے کر سکتا ھے

محترم نے لکھا ہے کہ پہلے بھی بٹگــــــرام میں ایسے پروگرامات ھوئے ہیں تو جناب عالی آپ لوگوں کے ہر جلسے میں اور ہر شاعرکے شاعری میں دین اسلام اور علماء کا مذاق اڑایا جاتا ھے اس کے بغیر آپ لوگوں کی شاعری مکمل ہی نہین ھوتی
اس وقت بھی جو آپکا ٹھکر نامی گینڈھا آکر شو کیا تھا وہ بھی جلسہ تھا اور جلسے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا

۹۳کی بات آج تک لوگ برے لفظوں میں یاد کرتے ہیں کہ ایک کنجر نے آکر علماء کے خلاف بکواس کیا تھا رہی بات آج کل کے میوزک شو کی تو یہ ایک ایسا پروگرام تھا جس کی وجہ سے آپ ہی کے اداروں کے اکیاسی میں سےجو اسّی فیل ھوجاتے ہیں وہی شرکت کرتے ہیں

تو جب استاد پڑھائی کے بجائے میوزک شو کو روح کا غذاء اور اسی میں اپنی خوشی تالاش کریں تو لازمی ہے کہ شاگرد بھی ویسے ہی ھونگے اور ہر سال سینکڑوں کے حساب سے ہو ایف ایم کیسز کا شکار ھونگے

استاد کے چھرے پر مجھے استاد کا چھرہ نہیں بلکہ گانے والا ناچنے اور نچانے والا نظر آرہاھے آپکو مشورہ ہے میوزک کے بجائے تعلیمی میدان میں محنت کرو تاکہ بچے روز روز کیسزز کا شکار نہ ھو اور مولوی کو یہ نہ کہا جائے کہ لوگ چاند پر گئے مولوی ابھی تک یہی ہیں تعلیمی محنت کرو تاکہ آپ لوگ چاند پر پہنچ جائے

آخر میں لکھا ہے کہ بٹگرام میں طالبان ذھنیت نے اس شو کو روک لیا …. آپ اپنی آنکھوں اور کانوں کا علاج کروالے یہ علاقہ ایک مذھبی علاقہ ہے ھر کوئی آپ لوگوں جیسے نہیں جو ڈنگ کی آواز سن کر جسم کی ھڈیوں میں گدگدی شروع ھوجائے یہاں اکثریت علماء طلباء اور مذھبی لوگ رہتے ہیں اور میڈیا کے بھت سارے ساتھی جنھوں نے اس میوزک ڈم توب کو رکوانے میں کردار ادا کیا وہ بھی مذھبی اور اسلام پسند ہی ہیں اور ھم انکو شاباش دیتے ہیں

اسی پوسٹ کے ایک کمنٹ پر نظر پڑی پڑھ کر … آہ میرے اللہ دل پھٹ سا گیا

لکھتے ہیں کہ سیسِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا
’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘
ہمارے علاقے میں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے۔
میری موبائیل ڈاونلوڈ کی شاپ تھی جب اینڈرائیڈ نہیں آیا تھا نا تھرجی فور جی، چھوٹے چھوٹے بچے میرے شاپ پر موبائیل لیکر آتے تھے کہ ہمیں پورن فلمیں ڈال کر دیں۔۔۔۔
اس وقت ہر اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والا بچہ ایکس دیکھ رہا ہوتا ہے،
نا بھی دیکھے تو ہم کنفیوز نسل پیدا کر رہے ہیں،
ہمارے علماء کا بیان سنیں کہ حور کے بعرے میں وہ کیا کیا کہہ رہا ہوتا ہے،
ہمارے فنکار اور شعراء ہی دیکھ لیں، عورت کے جسمانی اعضا ہی انکے موضوع ہوتے ہیں۔

اللہ اور للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں یاد نہیں رہے لیکن کسی انگریز کتے کی ہر بات دل پر لکھی ہے

ہائے کاش تمھارے پاس کچھ اسلامی معلومات ھوتی تو آپ یہ کچھ نہ لکھتے آپ علماء پر نہیں سیدھا رب لم یزل پر معترض ہیں کیونکہ حوروں کا ذکر رب نے قرآن میں کئی بار کیا ھے

آخــــــــــــر میں خود اقرار کیا کہ میں اپنی دوکان پر بیٹھ کر بچوں کیلئے گندی فلم ڈالا کرتا تھا اب اگر تو انکار کرے تو یہ کام مولوی نے نہیں تمھارے جیسے دوکانداروں نے عام کیا

ابو مصعب الدیشانی

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں