182

طاہر_داوڑ شہید کی ڈیڈ باڈی

#طاہر_داوڑ شہید کی ڈیڈ باڈی افغانستان کے اندر مومند قوم کے پاس پڑی ہے اور پوری قوم شہید کے ڈیڈ باڈی کو درکار لوازمات میں مصروف ہے ۔ طاہر داوڑ کے شہادت پر نہ صرف مومند قوم بلکہ افغانستان میں بسنے والی تمام قومیتوں کے مرد و زن شدید غم زدہ ہے ۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مومند قوم نے طاہر داوڑ کی ڈیڈ باڈی کو افغان اور پاکستانی حکومتوں کو حوالے کرنے سے صاف انکار کیا ہے ۔ مومند قوم چونکہ ہزاروں کی تعداد میں نکلی ہے اور طاہر داوڑ کے لاش کے پاس جمع ہوئی ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ طاہر داوڑ کے شہادت پر جتنا تکلیف وزیرستان سمیت دیگر پشتونوں کو پہنچی ہے اتنا ہی مومند قوم کے لئے تکلیف دہ مسلہ ہے ۔ انکا یہ بھی دوٹوک فیصلہ ہے کہ طاہر داوڑ کی ڈیڈ باڈی کو پاکستانی سرکار کی بجائے پشتونوں کو حوالے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اج پاکستانی پولیس تورخم سے خالی ہاتھ واپس چلی گئی ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حیات آباد میں جمع ہونے والے پشتون بڑی تعداد میں تورخم اجائے اور مومند قوم سے بڑی عزت اور اخترام کے ساتھ شہید طاہر داوڑ کی ڈیڈ باڈی کو وصول کیا جائے ۔ میرے خیال میں انصاف اور پشتونولی کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے ایک طرف ایک پشتون افسر طاہر داوڑ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا جبکہ دوسری طرف افغانستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ لہذا طاہر داوڑ کی ڈیڈ باڈی کو قاتلوں کو حوالے کرنے کے بعد سبز ہلالی پرچم میں لپیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ایک غمگین عزیز سے دوسرے غمگین عزیز کے حوالے سے پشتون ولی کے تقاضے پورے ہوجائے گے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پشاور سے تورخم اجائے اور اس طرف سے ہزاروں کی تعداد میں مومند قوم کے افراد لاش کو لیکر تورخم آجائیں گے ۔

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں