560

**** جب سپر پاور ملک پاکستانی دھاندلی کا شکار ہوا ****

**** جب سپر پاور ملک پاکستانی دھاندلی کا شکار ہوا ****
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان امریکا کی اس waar on terror کا حصہ کیوں بنا ؟
کیونکہ امریکا کی یہ جنگ افغان طالبان کے خلاف تھی ہی نہیں نہ ہی اسامہ بن لادن کو capture کرنے کی ، بلکہ در اصل یہ جنگ پاکستان کے خلاف false فلیگ آپریشن تھی
جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ امریکا اتنے بڑے ساز و سامان کے ساتھ محض اسامہ بن لادن کا شکار کرنے یا افغان طالبان کی حکومت ختم کرنے آیا تھا وہ انتہائی طور پر بیوقوف ہی ہے ، حقیقی اور مخفی جنگ ، در حقیقت پاکستان اور اس کے اثاثوں کے خلاف تھی . سی آئی اے نے افغانستان میں بیٹھ کر ایک covert انٹیلی جنس کا منصوبہ بنایا تھا اور یہی
منصوبہ پاکستان نے بھی بنایا .
کافی سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٩/١١ ایک داخلی آپریشن یا انسائڈ جاب تھا ، نہیں ، وہ انسائڈ جاب نہیں تھا بلکہ اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کا منصوبہ تھا جس کو عملی جامہ القایدہ کے کچھ سابقہ ممبرز نے پہنایا تھا . یہ موساد کا ہی منصوبہ تھا کہ پاکستان کے خلاف یہ جنگ امریکا کے ہاتھوں مسلط کی جائے . پہلے مرحلے کے طور پر ، اسرائیل کے پریشر پر ، امریکا نے افغانستان میں OBL کے نام پر جنگ شروع کی جو کہ ایک ڈھکوسلا ہی تھی ، اصل جنگ پاکستان کے خلاف ہی شروع کی گئی تھی . امریکا افغانستان میں دو بنیادی مقاصد کے لئے حملہ اور ہوا تھا :
١: افغانستان میں ایک missile ڈیفنس سسٹم کا قیام تا کہ اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ پاکستانی missile یا نیوکلیئر حملے سے محفوظ بنایا جا سکے اور یہ بھی کہ پاکستان پر اپنے نیوکلیئر پروگرام کو رول بیک کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا سکے
٢:افغانستان میں فوجی اور فضائی ایئر بسس کا ایسا نیٹ ورک بنانا کہ پاکستان کو چاروں طرف سے کنٹرول کیا جا سکے اور بہ یک وقت چین ، ایران ، روس پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ امریکا کے missiles کی براہ راست زد میں ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ بھی اسرائیلی مفاد میں ہی تھا کہ ان ممالک کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی ممکنہ کاروائی نہ ہو سکے..
اب جب کہ یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ امریکا کی افغانستان آمد کے اصل مقاصد کیا تھے ، ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا افغانستان میں حملہ کرتا ہے ، covert انٹیلی جنس آپریشن پاکستان کے خلاف ہی ہوتا ہے ، لیکن سپلائی لائن پاکستان سے ہی ملتی ہے ، فضائی سپورٹ اور فضائی اڈے بھی پاکستان ہی مہیا کرتا ہے ،
یہاں پر پاکستانی فوجی قیادت کی منصوبہ بندی پر تھوڑا غور کرتے ہیں .
پاکستانی فوجی قیادت ، اس سارے معاملے کی گہری پر غور کرنے کے بعد اس سارے کھیل کی تہ تک پنہچ جاتی ہے ، اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر پھر پاکستان ، امریکا کو سپلائی لائن ، فضائی اڈے وغیرہ کی سہولیات کیوں مہیا کرتا ہے ؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستان کس طرح سے اس منصوبے کو ناکام بناتا کہ ایک سپر پاور بلکہ تمام دنیا کے ساتھ ٹکراؤ کے باوجود کم سے کم نقصان ہو ، اور collateral ڈیمیج سے بچا جاتا ؟ پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا کہ ان آپریشنز پر کنٹرول قایم کیا جائے ، اس war on terror میں امریکا کی حمایت کا اعلان کیا جائے اور ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہمیں بھی ساتھ ملائیں ، ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی بات تھی کہ امریکا انکار کر بھی نہیں کر سکتا تھا .
اگر پاکستان ، ناٹو سپلائی اور ایئر بسس نہ دیتا تو امریکا کے پاس بھر حال متبادل راستے تو موجود ہی تھے ، یہ بلا ٹل تو جانی نہیں تھی ، لیکن اس میں پھر نقصان یہ ہونا تھا کہ پاکستان کے پاس کوئی کنٹرول نہ رہتا . ناٹو سپلائی اپنے پاس رکھنے کا یہی فایدہ تھا کہ ان کی سپلائی لائن پر کنٹرول ہمارے ہاتھ میں رہنا تھا اور ضرورت پڑنے پر ہم اس کو کبھی بھی بند بھی کر سکتے تھے جو کہ ہم نے کی بھی
دوسری طرف ، پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز نے افغان طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا ، strategically بھی اور finanicially بھی ، تا کہ امریکنز افغان طالبان کے ساتھ ہی مصروف رہیں اور اپنے اصل مقصد کی طرف جانے کا سوچ ہی نہ سکیں ، ووہی مقاصد جو کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے تھے
.آج ، لگ بھگ ١٣ سال کے بعد ، امریکنز اور ناٹو ، افغانستان سے تھی دامن نکلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ، اپنے خفیہ انٹیلی جنس مقاصد کو نا مکمل ہی چھوڑ کر ، جو کے انہوں نے پاکستان کے خلاف بناے تھے . آج تک ، امریکا افغانستان میں کوئی missile ڈیفنس سسٹم قایم نہ کر سکا ، بلکہ ان کے bases بھی تباہ ہوتے رہے ہیں
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ، بیشک پاکستان کو ہزاروں زندگیوں کی قربانی دینی پڑی ہے ، وگر گوں معاشی و سیاسی صورت حال اور دہشت گردی کو جھیلنا ضرور پڑا ہے ، سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام میں پاکستان آرمی کی یہ تصویر بنی کہ اس نے امریکا کی سپورٹ کی حالاں کہ ان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پاکستان آرمی نے ان کے لئے اور افغانستان کے لئے کیا کیا ہے اور کس طرح کروڑوں لوگوں کی جان بھی بچائی ہے
اگر پاکستان ، امریکا کو سپلائی لائن نہ دیتا تو کیا ہوتا ؟ امریکا کہیں سے بھی کسی بھی دوسری جگہ سے یہ کر لیتا ، اور اپنے مقاصد ٣ سال میں ہی مکمل کر لیتا ، پورے افغانستان میں ١٤ ، ١٥ ایئر basis قایم ہو جاتے ، missile سسٹم قایم ہو جاتا اور پاکستان اس وقت صومالیہ یا کانگو بن گیا ہوتا . اپنا نیوکلیئر پروگرام رول بیک کر چکا ہوتا ، اور انڈیا کے لئے بھوٹان کی حیثیت اخیتار کر چکا ھوتا .
ہمارے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ ہم حالات کو ان کے ظاہری تناظر میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا کیا ہو گیا ہے ، لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کیا بچا لیا گیا ہے یا کونسی خطرناک صورتحال کو دھکیل دیا گیا ہے..
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام کنفیوژن کا شکار ہیں ، عوام کو پتا ہی نہیں لگ رہا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط . کون صحیح ہے اور کون غلط یہ وہ عوام ہے جو آج تک کسی ایک لیڈر پر اتفاق نہ کر سکی . ان سب باتوں کی ایک ہی وجہ ہے . اور وہ ہے میڈیا
ایک اور اہم بات ، کنفیوژن پھیلانا ، دجال کا کام ہے اور آج کل یہ کام میڈیا کر رہا ہے جس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے .
اب آپ آگے آگے دیکھیں گے کہ ہر آرمی جنرل کو گندہ کیا جائیگا . جیسے پاشا صاحب کو کیا گیا .کیانی صاحب کو کیا گیا ، مشرف کو کیا گیا . اور اب ظہیر ال اسلام کو کیا جا رہا ہے
سب دجالی نظام یعنی میڈیا کی پھیلائی ہوئی کنفیوژن تھی.

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں