257

تحریر شاہ کامریڈ۔ میں سیاسیات کا طالب العلم ہوں

تحریر شاہ کامریڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔26/04/2018
میں سیاسیات کا طالب العلم ہوں میں نے قدیم سیاست بھی پڑھا ہے کیونکہ سیاست تو قدیم یونانیوں کی مرہون منت ہے جدید بھی پڑھ رہا ہوں ارسطو بھی پڑھا ہے افلاطون بھی۔۔۔۔۔مگر میرے ملک کا سیاست میرے سمجھ میں نہ آسکا کیونکہ میرے ملک میں سارے سیاسی مداری ہیں لیڈر کوئی نہیں اپنے ملک کی سیاسی مداریوں کو دیکھ کر مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔نیلسن منڈیلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا ایک شاہکار جملہ یاد آرہا ہے ”’کہ سیاستدان آگلے الیکشن لیکن لیڈر نیو جنریشن کے لئے سوچتا ہے”’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت دکھ کے ساتھ ایک مثال لکھتا ہوں اور پہلے بھی یہ مثال میں دے چکا ہوں ۔۔۔
کئی صدی پہلے ڈارون نامی سائنس دان نے ایک نظریہ پیش کیا تھا کہ انسان بندر کی بگھڑا ہوا جدید ترین شکل ہے۔ ہمارے سیاسی مداریوں کو اس بات کا پتہ آب چل گیا ہے اس لیے ہماری معصوم سادہ عوام کوبندر بنا کر اسے اپنے اشارے پر نچاتے ہیں۔اور لوگوں سے اپنے قصیدے پڑھاتے ہیں
دوستو:آپ نے بندر تماشہ تو دیکھا ہو گا جس میں مداری اپنی ڈگڈگی بجا کر بندر سے کیسے کیسے کام کرواتا ہے، کبھی تو وہ بندر کو سسرال جانے کی ایکٹینگ کرنے کو کہتا ہے تو کبھی ٹوپی پہن کر ہاتھ میں چھڑی لے کر دفتر جانے کی ایکٹینگ کرواتا ہے اور اسی کھیل تماشے سے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے،،
یہی حال ہماری سیاست کا ہے ، ہمارے مداری سیاست دان بیوقوف عوام کو ہر الیکشن میں بندر کی طرح کبھی سسرال جانے کے خواب تو کبھی بابو بننے کے خواب بانٹتے نظرآتے ہیں، مگر نا تو کبھی کسی بندر کو آپ نے سسرال جاتے دیکھا ہو گا اور نا ہی کوئی بند رکوٹ پتلون پہنے آپ کو کسی دفتر جاتا نظر آیا ہو گا،،
ایسے ہی وعدے ہمارے مداری سیاست دان الیکشن کے دوران کرتے ہیں کہ آپ کو سہولیات مل جائے گی روزگار مل جائے گا ، بہترین تعلیم ملے گا ، بڑے بڑے اعلانات کرتے ہیں کھبی یونیورسٹی کیمپس کھبی ایرپورٹ غرض انہیں ایسے خواب دکھاتے ہیں کہ بیوقوف ان کی ہر بات کو صحیح سجمھ لیتے ہیں اور اپنا قیمتی ووٹ ایسے لوگوں کو دے دیتے ہیں جس کا وہ اہل نہیں ہوتا اور جب وہ سیاسی مداری منتخب ہو اقتدارمیں پہنچ جاتے ہیں ، پھر انہیں وہ سب اعلانات بھول جاتے ہیں بلکہ وہ اپنے علاقے میں آنا ، ان کے غم خوشی میں شریک ہونا تو دور کی بات ہے انہیں پہنچاتے تک نہیں۔ کال اٹینڈ نہیں کرتے میرے عوام سے میرا سوال ہے کہ آپ آخر کب تک ایسے سیاسی مداریوں کے ہاتھوں بندر کی طرح ناچتے رہیں گے ۔ آپ کو ووٹ کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں کہ جسے آپ منتخب کر رہے ہیں وہ انہیں کس طرح ان کے ساتھ رہے گا کس طرح ہر غم خوشی میں شریک ہو گا۔
عوام کو چاہیئے کہ وہ ایسی سیاسی مداریوں کی باتوں میں نہ آئیں،، اس کے دکھاتے ہوئے ہر سبز باغ کو مسترد کر دیں ائندہ سیاسی شعور ،عملی ترقی کے خواہاں شخص کے ہاتھوں میں اپنے علاقے کی محرومی کو ختم کرنے کے لئے کمان دیں ورنہ آج کے طرح درباریوں جیسے آپ کو بھی چاپلوس اور درباری بننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہ جائے گا ۔

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں