775

*شادی کرادو میری*

*شادی کرادو میری*
ــــــــــــــــــــــــــــــ
کہتے ہیں ’مرد ویسے تو بڑا غیرت مند بنتا ہے لیکن سوتا اسی بستر پہ ہے جو اسکے ’سسر‘ نے دیا ہوتا ہو‘
ہمارا ماننا ہے کہ یہ بیان کسی دل جلے کنوارے نے محفلِ شادی شدہ یاراں میں دیا ہوگا
مگر بات فقط بستر کی تو نہیں، بھاری بھرکم جہیز کی ہے
اور اس کے ساتھ معصوم سی ننھی منؔی فرمائش کہ ’ہمیں نازک، کم عمر، سروقد، گیسو دراز، دودھیا رنگت، شرمیلی، پڑھی لکھی، گھریلو، سگھڑ اور جاب والی لڑکی چاہیے بس س س‘
جب پوچھا جاتا ہے کہ ’آپ کے صاحبزادے کیا کرتے ہیں؟‘
جواب ملتا ہے، ’ماشاء اللہ چنگ چی چلاتا ہے‘
رونمائی ہوتی ہے تو بندہ چاند کو شرماتا نظر آتا ہے کہ جب اسے گرہن لگا ہو
یہی نہیں بلکہ صنفِ نازک سے اظہارِیکجہتی کے لئے بالوں کی پونی بھی بنا رکھی ہوتی ہے جس میں چلتی جوئیں دور سے نظر آتی ہیں
ہے تو تلخ مگر حقیقت ہے کہ گرل/بوائے فرینڈ کے اس دورِ پُر فتنہ میں اگر کوئی لڑکا سر جھکا کے ماں سے کہے، ’امؔی! میری تو کوئی پسند نہیں، جو آپ پسند کریں مجھے منظور ہوگا‘
تو ماں کو چاہیے کہ بیٹے کی سعادت مندی کے گن گانے کے بجائے، سمجھ جائے کہ بیٹے کی ’مارکیٹ والیو‘ نہیں ہے
ـــــــــــــــــــــــ
ستم ان لڑکیوں پہ ہوتا ہے جو کالج/یونیورسٹی صرف پڑھنے کے لئے جاتی ہیں اور ڈگری لے کر چپ چاپ گھر آجاتی ہیں
اور پھر کچھ عرصے بعد انکا مارچ پاسٹ شروع ہوجاتا ہے
نیا سوٹ سلوا لیا جاتا ہے فوراً پہننے نہیں دیا جاتا، ’اٹھا کر رکھ دو کوئی آئے گا تب پہننا‘
’اچھی طرح صفائی کرو گھر کی، آج ’کچھ لوگ‘ آئیں گے‘
’یہ کھی کھی بند کرو، دہی بڑے بناؤ جا کے مہمانوں کے لئے‘
ــــــــــــــــــ
مائیں اوپر اوپر سے ڈانٹتی جاتی ہیں اور دل ہی دل میں دعا مانگتی جاتی ہیں کہ *’یا اللہ! آج تو بات بن جائے میری بچی کی‘*
مہمانوں کی آمد پہ واری صدقے جاتی ہیں کہ گردن میں سریا لگا کر آنے والی خواتین کا دل پگھل جائے
’یہ پکوڑے لیں، بیٹی نے بنائے ہیں، میٹھا چکھیں، بیٹی نے بنایا ہے۔۔۔ کچھ تو جذبات میں بہہ کر کیلے سیب پیش کرتے ہوئے بھی بول جاتی ہیں کہ کیلے کھائیے نا، بیٹی نے بنائے ہیں‘
ــــــــــــــــــ
*آنے والی خواتین بھی پورا ایگزامینشن پیپر سیٹ کر کے آتی ہیں*
’کیا کرتی ہو؟‘
’کیسے کرتی ہو؟‘
’کیوں کرتی ہو؟‘
’کب تک کرتی رہتی ہو؟‘
’سوتی کب ہو؟‘
’جاگتی کب ہو؟‘
’شیمپو کونسا استعمال کرتی ہو؟‘
’اتنا مہنگا کیوں استعمال کرتی ہو؟‘
’فیس پہ کونسی کریم لگاتی ہو؟‘
’اتنا گھٹیا برانڈ کیوں لگاتی ہو؟‘
’کپڑے کہاں سے خریدتی ہو؟‘
’سیل سے کیوں خریدتی ہو، بوتیک سے کیوں نہیں؟
’کھانا پکانا آتا ہے؟‘
’سلائی خود کرتی ہو؟‘
’ڈیزائننگ آتی ہے؟‘
’مشکل والی یا آسان والی؟‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور پھر یہ خواتین سموسے، رول، چپس، نمکو، دہی بڑے، کھیر اور شربت حلق تک انڈیل کر ایک بھیانک ڈکار مار کر کھڑی ہوجاتی ہیں اور یہ کہہ کر انکار کر کے چلتی بنتی ہیں کہ ’آپ کی بیٹی نے شربت لا کر میز پہ رکھ دیا، ہم سب کو الگ الگ تو پیش ہی نہیں کیا‘۔
ـــــــــــــــــــ
*ہم نے یہ تحریر ایک بچی کی فرمائش پہ لکھی ہے جو مسترد کیے جانے کے عذاب سے گزر رہی ہے۔*
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سماجی مسئلہ کوئی سا بھی ہو کسی کی تحریر لکھنے یا نا لکھنے سے حل نہیں ہوپاتا نہ ہی کسی کی تحریر ’سب‘ کا دماغ بدل سکتی ہے
لہذا ایسی تمام بچیاں جو ایسی صورتحال کا سامنا کر رہیں ہیں،پورے یقین کے ساتھ رب سے دعا کریں کہ ’یا اللہ! ہم معاشرہ نہیں بدل سکتے مگر تو ہماری قسمت بدل سکتا ہے، ہم تنہا نہیں رہ سکتے، واحد رہنا تیری ہی شان ہے، ہمیں اپنے کرم سے خوشیاں عطا کرنے والا ساتھی عطا فرما۔ آمین‘
ـــــــــــــــــــ
ہمیں نصیحت کرنا پسند نہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ زندگی کے کسی مرحلے پہ کبھی زبان سے یہ نہ نکالیں کہ ’اب کیا ہوگی ہماری شادی!‘
’اب کون کرے گا ہم سے شادی!‘ وغیرہ وغیرہ
*بہترین الفاظ سے ذیادہ بے انتہا عاجزی کے ساتھ دعا مانگیں، دیکھیے گا اللہ سنے گا اور ایسا سنے گا کہ آپ خود حیران رہ جائیں گی…* 😊

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں