310

شخصیت پرست قوم

شخصیت پرست قوم
میں نے آج تک کسی بھی سیاسی جماعت کا کارکن ایسا نہیں دیکھا ، جس نے اپنے لیڈر کے غلط پالیسیوں یا کام سے اختلاف کیا ہو ، بس جسے دیکھو ہر کوئی اپنے سیاسی لیڈر کے غلطیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایسے ایسے دلائل گڑھ لا رہا ہوتا ہے ، جو بذات خود انکا لیڈر کبھی تلاش کر نہ پائے ،
مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں سے کوئی ایک ایسا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ درست ہے ؟
تحریک انصاف کا کوئی کارکن ایسا ہے جو عمران خان کے عدالتی احکامات نہ ماننے اور عدالت میں پیش نہ ہونے ، قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کو غلط سمجھتا ہو اور اس پر تنقید جائز سمجھتا ہو ؟
پیلپز پارٹی کا کوئی ایسا جیالہ جو زرداری کو کرپشن کی مشن اور اسے پیپلزپارٹی کی تباہی کا ذمہ دار سمجھتا ہو ؟
جمعیت علماء اسلام کا کوئی ایسا کارکن جو مولانا فضل الرحمان کے حکمران جماعت سے حد سے زیادہ دل لگی اور تحریک انصاف سے بےحد نفرت کرنے کو غلط سمجھتا ہو ؟
اور قادینیت نواز بل اور رانا ثناءاللہ کی زبان درازی پر مولانا کی خاموشی کو تنقید کا اہل سمجھتا ہو ؟
کوئی ایک ایسا جماعتی جو سراج لالہ کی دوغلی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہو ؟
کوئی ایک ایسا مہاجر بھائی ، جو الطاف حسین کو پاکستان دشمن اور انڈیا کا ایجنٹ سمجھتا ہو ؟
عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی ایک ایسا کارکن جو اسفندیار خان کے پختون مخالف بیانات پر اسے تنقید کا نشانہ بناتا ہو ؟
اس کے علاوہ باقی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا بھی یہی حال ہے ،
اس رو سے ہم سب چور ہوئے ، دوسروں کے گریبان میں جھانک کر ان پر تنقید کے نشتر چلانےسے ہمیں دلی سکون ملتا ہے ،
لیکن کبھی خود اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہیے ، ایک اہم اور آخری بات اپنے لیڈروں کے گناہوں پر پردہ ڈالنا کمال نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے جو درباریت سے بھی بری مرض ہے ،
اللہ تعالی ہم سب کو سچ کہنے اور اسے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،
بقلم خود احسان نسیم

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں