255

لکھا ھوا کالم آرڈر کہاں سے آیا ہے؟

محتـــــــــــرم ومکر م مولانا اسماعیل یوسف حفظہ اللہ کا لکھا ھوا کالم آرڈر کہاں سے آیا ہے؟
یقینا ھم اس آرڈر کے پابندتھے ہیں اور جب تک زندگی رھی اسی آرڈر کے پابند رھینگے

ابو مصعب شاکر الدیشانی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آرڈر کہاں سے آیا ہے ؟؟؟؟؟؟

محمد اسماعیل یوسُف.

ہم غالباً درجہ ثالثہ کے طالب علم تھے.
ایم ایم اے کا پہلا دور تھا, مولیٰنا محمد اعظم طارق صاحب شہید ہوچکے تھے.

استاد محترم امام اہلسنت حضرت حیدری شہید رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً وّاسعہ کے بیانات میں ایک عجیب جوش اور ولولہ تھا,
وہ ہرجگہ بڑی شدت سے اس غیر فطری اور غیر اسلامی اتحاد کی بھرپور طریقےسے تردید کرتے تھے.

اور وہ تردید محض زبانی کلامی تردید نہیں ہوتی تھی بلکہ مدلل گفتگو ہوتی تھی.

جس کاجواب توکسی کے پاس نہیں تھا البتہ نجی محفلوں میں اس پر خوب تبصرے ہوتے تھے.

جاپانی کیسٹ کادور تھا. ایک بڑی عمر کے عالم دین جو قریب ہی ایک جگہ امامت کے فرائض سرانجام دیتے تھے, انہوں نے حضرت کی تقریر کی کیسٹ سنی……..

تو اس میں ایم ایم اے کی کھلم کھلا مخالفت تھی .

تو انہیں معاملہ سمجھ نہ آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے.

لاکھوں علماء کرام ومفتیان عظام کی جماعت کے ایک ذمدار سے صورتحال پوچھی کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟؟؟؟؟

حیدری صاحب کیوں اتنی شِدَّت سے مخالفت کررہے ہیں ؟؟؟؟

اس نے جواب دیاکہ حیدری صاحب کو ایجنسیوں نے پانچ لاکھ روپےدیئے ہیں کہ ایم ایم اے کی مخالفت میں تقریر کرو………
یہ اوپر سے آڈر آیا ہے., اسلئےوہ ایم ایم اے کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں. …..

وقت گذرتا رہا.

ایم ایم اے نے اپنے صوبے میں مکمل اسلام نافذ کیا.
قرون اولی کی یادیں تازہ ہوگئیں.
ایم ایم اے کے غیر اسلامی شکل وصورت کے وزیراعلی نے لوگوں کو مکمل اسلامی شکل وصورت اختیار کروادی.

اور لوگوں نے شکرادا کیا کہ دور خلافت کے بعد ایک بار پھر جیسے عمر بن عبدالعزیز کادور آگیا ہو……

ایم ایم اے کے پہلے سربراہ جو ہلکا پھلکا میک اپ بھی فرما لیا کرتے تھے, وہ اپنے متبعین کو اداس اور بےقرار چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوئے.

اسکے آخرت سدھارنے پر استاد محترم نے ایک تقریر میں فرمایا کہ……

“اعظم طارق شہید ہوا توایک کہنے لگاکہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہوتا تو یوں نہ مرتا………

پھراس نے مرکر دکھایا کہ وہ یوں مرتے ہیں کہ دروازہ توڑ کرلاش نکالی جاتی ہے,

تمہیں یوں مرنا پسند, ہمیں اعظم طارق کیطرح مرنا پسند ”

پہلے صدر کے بعد ایم ایم اے اختلافات کاشکار ہوئی.
اور متضاد بیانات اور اعلانات سامنے آنےلگے.

اور اس دور میں جیو نیوز کے “سب کے امید سے ہونے والے ” پرگرام کا ایک ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا کہ

.”‘ھیلو…… . آواز نہیں آرہی…… ”

حکومت ختم ہوئی, تو ایم ایم اے بھی ختم ہوگئی.
اگلے انتخابات میں باوجود کوشش کے بحال نہ ہو سکی.
تو ایم ایم اے کی مخالفت بھی کسی نے نہیں کی.
نہ ایم ایم اے میں شامل لوگوں کی مخالفت کی.

زرداری دور گذرا,
مرحب شریف کادور آیا,
جو قریب الاختتام ہے

اب آنیوالے الیکشن سےقبل دوبارہ ایم ایم اے کو بحال کرکے اسلام کی نشاۃ “ثالثہ ” کی کوشش شروع کردی گئی ہے….

ہمیں ایم ایم اے کی بحالی کےحوالےسے کوئی اعتراض نہیں تھا اگر اس میں منکر اسلام, منکر صحابہ اور دشمن اہل اسلام کو اسلام کے نام پر شامل نہ کیا جاتا………

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب ایم ایم اے بحال نہیں تھی تو اہل سنت کی نمائندہ تنظیم سپاہ صحابہ نے قربت اور ایثار کاکوئی موقع جانے نہیں دیا…….

جسکی بڑی مثال بلوچستان کے ضمنی انتخابات میں اپنا امیدوار دستبردار کرواکر جمیعت کے امیدوار کی حمایت کرنا.
اپنے بل بوتے پر جھنگ کی جیتی ہوئی سیٹ جمیعت کودینا ہے.

اگر یہ سلسلہ ” باھمی ” ہوتا
اورطرفین سے ہوتا تو بہت سے دلوں کوسکون پہنچتا.

مگر پھر وہ ہوا کہ جسکی امید نہ تھی کہ دشمن اسلام کو اسلام کے نام پر پناہ دی گئی,
اسمبلی کے فورم پر اکابرین کے فتاوی جات کو جوتے کی نوک پررکھ کر اڑادیا گیا,
متفقہ کفرکو سند اسلام عطاء کی گئی,

بات اس سے بھی آگے بڑھی اور فرمایا گیا کہ ہم نے “چوں چاں ” بند کردی.

فرقہ پرستوں کو گھروں میں بٹھا دیا….

اس جملے میں کبر, غرور, تکبر, خودنمائی, بڑائی, اصول دین کی تکذیب, اکابرین کے فتاوی جات کی تردید اور نہ جانے کیا کچھ تھا …

جب معاملہ یو ں جلسہ ہائے عام میں تضحیک واستہزاء تک پہنچا تو پھر اسکا نتیجہ بھی “غیرفطری” ہرگز نہیں نکلنا تھا.

“وہ دن گئے جب ہراک ستم کو اداء محبوب کہہ خوش تھے ”

لہذاء “جواب آں غزل ” کے طور پر جواب ملناشروع ہوا.

اور اپنی سیاسی طاقت خود استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ,
اور اکابرین کے فتاوی جات کی وکالت وحفاظت کیلئے میدان عمل میں نکلنے کافیصلہ ہوا,

جب عوامی قوت کے مظاہرے کیساتھ عوامی جلسے میں کی گئی بات کاجواب عوامی جلسے میں دیا گیا تو بہت سے لوگوں کو بدھضمی ہوگئی.

لہذاء ایک بار وہی پرانا چورن بیچتے ہوئے کہا جانے لگا ہے

“ایم ایم اے کی مخالفت کاارڈر اوپر سے آیا ہے”

اس سلسلے میں صرف دو باتیں کہوں گا.

1.
ایجنسیوں کے اشاروں پر چلنے والے جانیں نہیں دیا کرتے.

2.
ساری دنیا جانتی ہے کہ تم ایک “وزارت ” کی مار ہو.
تمہاری مخالفت میں کسی کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہی نہیں.

ہاں اتنی بات ہم مانتے ہیں کہ اس غیر فطری اور غیر اسلامی اتحاد کی بھرپور طریقےسے تردید اور مخالفت کاآڈر ہمیں صرف اوپر نہیں, بلکہ بہت ہی اوپر سے آیا ہے.

اس ذات کی طرف سے ہے کہ جسے احکم الحکمین کہتے ہیں,
جو خالق ارض وسماء ہے,
جو مالک یوم الدین ہے.

جس کے آڈر کو اسکے حبیب نے من وعن ,بغیر کسی تغیر وتبدل اور کمی پیشی کے آگے پہنچایا ہے.

اور وہ آڈر ہے…………

لا تتخذوا الیہود والنصاری اولیاء.

بعضہم اولیاء بعض .

ومن یتولہم منکم فانہ منہم .

لا تتخذواء عدوی وعدوکم اولیاء .

لاتقعدوا معہم.

الا فلا تناکحوہم.

الا فلا تناکحوہم الیہم.

الا فلا تصلوا معہم.

الافلا تصلو علیہم.

حلت علیہم اللعنۃ.

فقولوا لعنۃ اللہ علی شرکم.

انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وہم راکعون.

یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا الکفرین اولیاء من دون المومنین.

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں اوپر سے آڈر ملا ہے.
اور آڈر دینے والی ذات رب العلمین کی ہے.
لانے والی ذات رحمۃ اللعلمین کی ہے.

اور ہم نے اللہ کی توفیق اور عطاء سے ہزاروں جانیں قربان کرکے اساس اسلام پر پہلے بھی پہرہ دیا تھا اب دینگے.
ہم اوپر کے اس آڈر کا پابند ہیں.

اسماعیل یوسُف

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں