342

” مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے “

” مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے ”
آپریشن تھیٹر سے باہر نکلتی نرس نے اُس سے مُخاطب ہوتے ہوئے اطلاع دی.
دو سال ہوئے شادی کو اور آج اولاد کی خوشی نصیب ہوئی.
ڈاکٹر نے بتایا تھا کچھ پیچیدگیوں کی بنا پر میجر آپریشن کرنا پڑے گا.توقع تھی کے اللہ کی ذات اولادِ نرینہ سے نوازے گی لیکن…
” مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے “…
یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے اُسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا.
جہانزیب نام تھا اُس کا.شکل و صورت سے مردانہ وجاہت چھلکتی تھی.لڑکیوں تو جیسے پیروں کی جوتی سمجھتا تھا.آج اک لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں دیکھا گیا تو کل نئی لڑکی کے ساتھ پارک میں.
فلرٹ کرنا تو دائیں ہاتھ کا کھیل تھا.جوانی کا عروج تھا جوانی بھی وہ جو بے مُہار ہو.انہیں رنگینیوں میں غرق اک لڑکی کی زندگی تباہ کردی لیکن پیشانی پر ندامت کی شکن تک نا آئی.
روز کا معمول جو ٹھہرا تھا.
بات جب شادی تک پہنچی تو لڑکی کو یہ کہہ کر دامن بچا لیا کے گھر والے نہیں مان رھے.حقیقت میں خود نہیں چاہتا تھا ایسا.
اپنی عصمت اندھی ہوس میں لُٹانے کے بعد لڑکی کہہ پائی تو بس اتنا….
” میں جذبات کی رو میں بہہ کر جو کر گئی اس کا صِلہ بھی پا لیا آج.یہی نصیب تھا میرا.ہاں اللہ پاک سے دُعا ہے کے مُجھے تو میرے کئیے کہ سزا ملنی ہی ہے لیکن تمہیں…..تمہارے نصیب میں اگر اولاد ہے تو دُعا ہے پہلی اولاد بیٹی ہو. ”
جوانی کے نشے میں چُور یہ بات بھُلا بیٹھا تھا.تھا ہی ایسا بے فکر, لا پرواہ.
کچھ عرصہ بعد ماں نے خاندان میں اک لڑکی دیکھ کر رشتہ طے کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصہ میں شادی بھی ھوگئی.
جب بیوی نے گھر میں نئے مہمان آنے کی خوشخبری سنائی بہت خوش تھا اُس دن.قدم زمین پر نا ٹکتے تھے.
اور جس دن نرس نے بتایا کے
” مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے ”
اُس دن اُس لڑکی کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے دماغ پر.
” کیا میری بیٹی میرا بدلہ چُکائے گی.? ” اک ٹِیس سی اُٹھی سینے میں.
” میری بیٹی معصوم ہے.وہ بھلا کیوں چُکائے گی.”
آنسو رواں تھے آنکھوں سے.لڑیوں کی صورت دامن میں جذب ہو رھے تھے.
” کیا کہیں میری بیٹی کیلئیے بھی کوئی جہانزیب پیدا ھو چکا ہے.?”
” کیا میرا کِیا یہ معصوم سہے گی.? ”
الفاظ نہیں تھے ہتھوڑے تھے جو برس رھے تھے.
سینے میں ٹِیس بڑھتی جا رہی تھی.آس پاس سے گُزرنے والے حیرت کی تصویر بنے ہوئے تھے.
” نہیں میرے مولا.میرے گُناہوں کی سزا مُجھے دینا.میری بیٹی کو نہیں.”
بڑبڑاتا ہوا کُرسی سے اُٹھا اور مسجد کی جانب لپکا.
درد کی شدت اس قدر تھی کے شاید سینا پٹھنے والا تھا.لیکن پرواہ ہی کب تھی.
” من چاہ رہا تھا چیخے چلائے لیکن آواز کہیں دور اپنے ہی کئیے کے بوجھ تلے دفن تھی حلق میں.”
اور پھر گِر پڑا سجدے میں….
بس روئے جا رھا تھا.بچوں کی طرح بِلک بِلک کے.بنا کچھ بولے بِنا کچھ کہے.

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں