302

شکریہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

شکریہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر۔ محمد سکندرشاہ ،، ٹنڈوالہیار
24 اپریل گرم دن ، منگل یعنی ورکنگ ڈے ، صبح 9 بجے کانفرنس کے آغاز کا وقت رکھا گیا ، بظاہر ناکامی کے نقشے تھے ، لیکن رب کریم نے فضل اور بٹگرام کے دوستو نے محنت کی ، علامہ عطا محمد دیشانی صاحب نے اپنے آپ کو اہل قیادت ثابت کیا اور 24 اپریل کو جلسے کے نام پر ہونے والا ریفرنڈم اہلسنت والجماعت نے جیت لیا ، اس سے پہلے ہنگو اور بعد میں ایبٹ آباد میں ہونے والے استقبال اور جلسے پیغام اسلام کے ساتھ پیغام سحر بھی ہیں ، ملک میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں دینی ووٹ بینک موجود ہے آثار نظر آ رہے ہیں کہ ان شااللہ اب یہ ووٹ مشن حق نواز ؒ کے سفیروں کو ملے گا ، ایک صاحب نے کراچی کے جلسے میں تکبرانہ انداز میں کہا تھا کہ اب تمہاری چاں ، چوں کا کوئی فائدہ نہیں ، وہ صاحب ہمیں فرقہ پرست بھی کہہ رہے تھے اور گھر بیٹھ جانے کے مشورے بھی دے رہے تھے ، کوئی ان صاحب کو سمجھائے کہ آپ نے حق نواز شہیدؒ کے کارکنان کے مزاج کو سمجھا نہیں ہے ، یہ اپنی مرضی سے سال ، سال کسی اجلاس میں شرکت نہ کریں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی انہیں ڈانٹ کر متکبرانہ انداز میں للکارے تو پھر یہ گھروں میں نہیں بیٹھتے ، یہ ایسے ہی گھروں سے نکلتے ہیں جیسے بٹگرام اور ہنگو میں نکلے ، امام سیاست صاحب ابھی دل کو تھوڑا بڑا کریں ، یہ مناظر آپ نے بار ، بار دیکھنے ہیں ، قائد اہلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب نے بٹگرام کے جلسے میں 10 دینی جماعتوں پر مشتمل نئے دینی اتحاد کی خوشخبری بھی سنادی ہے ، کارکنان تھوڑا انتظار کریں قائد اہلسنت مزید خوشخبریاں بھی سنانے والے ہیں ، تو بات چلی تھی نئے دینی اتحاد سے ممکن ہے تعداد میں کچھ کمی ہو یا اضافہ لیکن نیا دینی اتحاد بننے کو ہے ، آپ نے تکبر میں مولانا سمیع الحق صاحب جیسے شفیق انسان کی بھی بے توقیری کی ہے ، مولانا سمیع الحق صاحب کے حوالے سے مجلس عمل والوں کی سوشل میڈیا پر منفی مہم قابل مذمت بھی ہے اور قابل افسوس بھی ، مجلس عمل کے لوگ سوشل میڈیا پر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، ستمبر 2017 میں انتخابی اصلاحات کے نام پر ایک بل سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش ہوا ، اس بل میں ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں ھیر پھیر کی کوشش کی گئی ، جمعیت علما اسلام والوں نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ، لیکن جب شیخ رشید احمد صاحب نے قومی اسمبلی میں چند منٹ کی ایک اہم تقریر کی تو اس کے بعد جمعیت والوں نے مخلتف پینترے بدلے پہلے بیان دیا کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی شیخ رشید پوائینٹ اسکورننگ کر رہے ہیں ، پھر مئوقف آیا کہ نہیں تبدیلی تو ہوئی ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے فون کر کے سعودیہ سے ہی یہ ترمیم واپس کروا دی ہے ، پھر اس سے بھی بات نہ بنی تو نیا مئوقف امام سیاست کا یہ آیا کہ ہمیں دکھایا کوئی اور بل گیا پاس کوئی اور بل کروایا گیا ، پھر امام سیاست قومی اسمبلی میں گئے تو وہاں شیخ رشید کا شکریہ بھی ادا کیا اور فرمایا پارلیمنٹ سے اجتماعی غلطی ہوگئی ، پھر جب خادم حسین رضوی صاحب نے احتجاج کیا تو نیا مئوقف یہ اختیار کیا کہ اس سازش کو بے نقاب کیا جائے جس کی وجہ سے یہ ھیر پھیر ہوئی ہے ، آج کل امام سیاست کے ماننے والوں نے ایک نیا کہرام یہ مچا رکھا ہے کہ سینیٹر حافظ حمداللہ نے اس قانون پر اس وقت ہی اعتراضی نوٹ لگا دیا تھا کہ جب یہ بل سینیٹ میں پیش ہوا تھا ، اپنا ماننا یہ ہے کہ جمعیت والوں کی یہ بات ٹھیک ہے کہ حافظ حمداللہ نے اعتراض کیا تھا اور یہی تو اعتراض جمعیت کی پارلیمانی سیاست پر بنتا ہے کہ جب آپ کی نظر میں ختم نبوتﷺ کے قانون میں ہونے والی ھیر پھیر آچکی تھی تو اس اختلافی نوٹ کے بعد خاموشی کے ساتھ آپ نے اس بل کی حمایت میں ووٹ کیوں دیا ، آپ نے وہ کردار ادا کیوں نہیں کیا جو کہ شیخ رشید نے ادا کیا ، شیخ رشید اکیلا کچھ نہیں کرسکتا تھا اس نے قوم کو پکارا ، لیکن جمعیت اور جماعت اسلامی نے اس بل یعنی ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، یہ بدنما داغ ان دونوں دینی جماعتوں کے ماتھے پر سجا ہوا ہے ، جمعیت اور جماعت اسلامی کو عوام میں آنے سے پہلے اپنی اس غلطی پر رب کریم اور قوم سے معافی مانگنی ہوگی ، یہ 2018 ہے صرف باتوں سے قوم کے دل کو بہلانا اب ممکن نہیں ہے ، جمعیت کی سیاست میں ایک بات اور مجھے عجیب لگتی ہے اگر جمعیت کو وزارت اعلیٰ ملے تو اکرم خان درانی وزیراعلیٰ بنتے ہیں ، وفاقی وزارت ملے تو اعظم سواتی اور اکرم درانی جیسے دنیا دار لوگ آگے ہوتے ہیں ، لیکن جب ان کی پالیسیوں پر تنقید کرو تو یہ علما کرام کے مقدس نام کے پیچھے چھپتے ہیں ، الحمدللہ ہم علما کرام کے بے ادب نہیں ہیں ، ہم علما کی تعظیم کرتے ہیں ، لیکن علما ، علما کرنے والے علما کرام کو اہم وزارتوں پر فائز کیوں نہیں کرتے ، ہمارے ٹنڈوالہیار میں این اے 223 پر علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب کے مقابل ڈاکٹر راحیلہ مگسی کی جمعیت علما اسلام نے کھلی حمایت کی تھی ، اپنی سمجھ میں تو بات یہی آئی کہ علما ، علما کی بات ایک سیاسی کارڈ ہے جسے اپنے حق میں یہ احباب خوب اچھی طرح کھیل رہے ہیں ، آج کل 2 تاثر سوشل میڈیا پر جمیعت کے احباب بڑے جوش و خروش سے پیش کر رہے ہیں پہلی بات یہ کہ سپاہ کی قیادت جب مشکل میں ہوتی ہے تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے بات کرتی ہے ، دوسری بات یہ کہ سپاہ یہ مخالفت ایجنسیوں کے کہنے پر کرتی ہے ، پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ جمیعت کے احباب حد درجہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں یا انہیں کسی نے غلط باتیں بتا کر ادھر ادھر لگا رکھا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ اہلسنت والجماعت کی مشکلات ہر ضلع ، تحصیل اور یونٹ کی سطح تک ہیں ، کوئی ضلع ، کوئی تحصیل ایسی جمعیت والے بتائیں جہاں ہمارے لوگ گرفتار ہوئے ہوں یا لاپتہ ہوئے ہوں اور وہاں جمعیت کے لوگوں نے ہماری مدد کی ہو ، یقننا خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ، باقی مولانا فضل الرحمٰن صاحب سیاست کا ایک بڑا نام ہیں ، انہیں سرکاری مراعات اور پروٹوکول ملا ہوا ہے ، جب جب ان سے ملاقات ہوئی ہوگی تو ان کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر بھی قائدین نے کیا ہوگا ، لیکن ان میں سے کتنی مشکلات انہوں نے ہماری حل کی تو اس کا جواب بھی صفر ہوگا ، باقی جذبہ خیرسگالی کے تحت ہمارے لوگ اکثر مقامات پر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا تذکرہ اچھے لفظوں میں کرتے ہیں تو اس کا مطلب جمعیت کے دوستوں کو یہ نہیں نکالنا چاہیئے کہ اہلسنت والجماعت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے احسانوں تلے دبی ہوئی ہے الحمدللہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اہلسنت والجماعت پاکستان کی قیادت کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ اہم ترین مقامات پر بھی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو اپنا بڑا مان لیتی ہے ، دوسری بات اگر اہلسنت والجماعت ایجنسیوں کی جماعت ہوتی یوں مشکلات میں نہ ہوتی ، ہمارا مشکل سفر ہماری پاک دامنی اور خود مختاری کی روشن دلیل ہے ، پھر آتے ہیں ختم نبوت ﷺ قانون میں ھیر پھیر کی بات پر تو محترم راجا ظفرالحق صاحب کی رپورٹ آپ شائع کرائیں ، آپ حکومت کا آج بھی حصہ ہیں قوم کو پتہ لگنا چاہیئے کہ آخر ختم نبوتﷺ کے قانون پر شب خون مارنے والے وہ بدکردار کون ہیں ، آپ ہمت کریں اس رپورٹ کو شائع کرائیں ، باقی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا شکریہ اس بات پر ضرور ادا کرنا چاہیئے کہ انہوں نے اہلسنت کارکنان کو بیدار کردیا ہے ، کل تک سیاست میں حصہ لینے کے جو ساتھی قائل نہیں تھے مجلس عمل کے اتحاد کے بعد وہ سیاست کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں اب وہ لوگ بھی عملی سیاست میں حصہ لینے پر آّمادہ ہیں ، اب ہرشہر میں ہنگو اور بٹگرام کی طرح بیداری آئے گی ، شکریہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب آپ نے سوئے ہوئے کارکنان کو جگا دیا ہے ، آپ کا شکریہ ، آپ کا شکریہ ، آپ کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں