34

کشمیر:’سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی گرفتار‘، کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق انڈین سکیورٹی فورسز نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو گرفتار کیا ہے۔
سری نگر کے مجسٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے گرفتاری کے احکامات میں لکھا گیا ہے کہ محبوبہ مفتی کو اس لیے گرفتار کیا جا رہا ہے کیونکہ ان کی سرگرمیوں سے وادی کا امن و امان خراب ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر نیشنل کانگریس کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے علاقے میں کشیدگی بڑھے گی۔
جاری کیے گئے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے علاقے میں بدامنی اور وسیع پیمانے پر احتجاج ہوگا۔ ’اب تک حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے سختی دکھائی ہے اور گذشتہ کچھ برسوں میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی گئیں۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جموں و کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سمیت جو کچھ گذشتہ چند دنوں میں کیا گیا اس سے وہاں کے لوگوں کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انڈیا کے اس اقدام سے علاقے میں کشیدگی بڑھے گی۔  فوٹو:اے ایف پی

ایمنسٹی انٹرنیشل انڈیا کے سربراہ آکر پٹیل نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکشن کی کی غیر معینہ مدت کے لیے معطلی عالمی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق نہیں۔ ’ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا حق ہے مگر لوگوں کے پرامن احتجاج کے حق کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔‘
ایمنسٹی کے مطابق معاملات کو بدتر بناتے ہوئے اہم شراکت داروں کو نظر بند کیا گیا اور جموں و کشمیر پر پارلیمنٹ میں اہم فیصلے کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔
اس سے قبل انڈین حکومت کے فیصلے پر ردعمل میں پاکستان نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ ’انڈیا کے یک طرفہ اقدامات کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انڈیا کے ایسے اقدامات کشمیریوں کو بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ پاکستان انڈین حکومت کے فیصلے کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا۔‘
مودی حکومت کے فیصلے پر انڈین پارلیمنٹ میں بھی احتجاج کیا گیا۔ کشمیری ارکان پارلیمنٹ فیاض احمد میر اور نذیر احمد لاوے نے بھی اس فیصلے پر شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا۔

انڈین حکومت کے فیصلے کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی سیاست دانوں کا ردعمل

پاکستان میں بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے انڈیا کی جانب سے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
حزب اختلاف کے قومی اسمبلی میں قائد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف بغاوت ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے لیے درخواست کرے۔ ’حکومت فیصلہ کن اور مضبوط حکمت عملی کے لیے تمام دوست ممالک سے رابطہ کرے۔‘
اکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انڈیا کے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے پر ردعمل میں ٹویٹ کیا کہ ’کشمیر میں ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔ انتہا پسند انڈین حکومت کی نیت واضح ہے۔‘
بلاول بھٹو نے اپنے ٹویٹ میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی جارحیت کے تناظر میں صدر مملکت سے پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے انڈین حکومت کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ’آپ انڈیا کے اس اقدام کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہے یا خود بھی اس کا حصہ تھے۔‘
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ’ہمیں سچ بتایا جائے۔‘
مریم نواز نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ بحران کے وقت یہ پھر ناکام ہوگئے۔ ’ایسے وقت میں وزیرخارجہ حج کے لیے چلے گئے۔ یقینا وہ وہاں کشمیریوں کے لیے دعا کریں گے۔‘

وزیر داخلہ کو خصوصی طور پر قبل از وقت نوٹس کے بغیر بل پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ ’پاکستان تاریخ کے اہم موڑ پر ہے، اس نازک وقت میں سیاسی قیادت کو اجتماعی بصیرت اور تدبر سے کام لینا ہوگا، مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی بنیادی وجہ ہے، اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔‘
اسفندیار ولی خان نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ ’یہ ان قوتوں کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے جو عدم تشدد کی بات کرتی ہیں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں، تشدد سے نفرتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جائیں گی، دونوں ملک ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘
کشمیر کی صورتحال پر جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا کہ ’بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر زمینی حقائق کا ادراک کرے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں حق خودارادیت کے لیے استصواب رائے کروائے جو کہ اس مسئلہ کے واحد حل ہے۔‘
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے بعد لکھا گیا کہ ’قائداعظم نےکشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی قوم انھیں تنہا نہیں چھوڑے گی،زندگی کےآخری لمحےتک ان کا ساتھ دے گی۔ حکومت مسلم ممالک کو ساتھ ملاکر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے۔ مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔‘

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں