24

تعریف کریں تو بہادر صحافی

جب سچ لکھیں تو درباری جب تیری یا میری تعریف کریں تو بہادر صحافی

پیارے دوستوں سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور بیانات دیکھ کر محسوس کیا کہ ایک تحریر لکھوں،آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور ہر فیس بک آئی ڈی کا مالک صحافی بنا پھرتا ہے اور خان ازم پر تبصرے کرکے خود کو بہادر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سوشل میڈیا کا تصور ہی نہیں تھا پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا خوانین وقت اور انتظامیہ کیخلاف بیان دینے کی کوئی بھی جرات تک نہیں کرسکتا تھا لیکن بٹگرام میڈیا روم کے ایڈیٹر انچیف احسان نسیم نے اس وقت بھی ظالموں اور جابروں کیخلاف صدا حق بلند کیا مجھے یاد ہے کہ احسان نسیم کیخلاف اس وقت انتظامیہ اور خوانین کی جانب سے مشترکہ جھوٹے کیسز بھی بنائے گئے حتی کہ اس وقت کے ڈی سی او مسرت حسین نے انکے قریبی ساتھیوں سے اخبارات کے ایڈریس اور فون نمبر حاصل کرکے انکے خلاف اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان کو جھوٹے خطوط بھی لکھے
مگر اس مرد مجاہد نے بلا خوف وخطر اپنا مشن جاری رکھا، مجھے یاد ہے کہ ماضی میں ایک تحصیلدار کیخلاف کرپشن کی خبر لگانے پر احسان نسیم پر حملہ بھی ہوا جو کہ بٹگرام کی صحافتی تاریخ میں کسی بھی صحافی پر پہلا حملہ تھا، بٹگرام میں آزادی صحافت کیلئے انکے قربانیوں کی نظیر نہیں ملتی
یاد رہے کہ مذکورہ چند عرصے سے فیس بک پر ایک مخصوص لوگ زاتیات پر اتر آ کر میڈیا روم اور احسان نسیم کیخلاف بے بنیاد خبریں لگا رہے ہیں کبھی انہیں خوانین کا درباری تو کبھی انہیں قوم دیشان کے دشمن ثابت کر رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی کی رضا اور احسان نسیم کی قربانیوں سےزیادہ تر لوگ آج کھل کرخان ازم کے خلاف باتیں کرتے بٹگرام میڈیا روم کا سیاسی پارٹیوں کے ساتھ انتہائی اہم کردار رہا مگر سچ کون مانتا ہے؟ اب جو عناصر میڈیا روم پر پیسے لیئے جانے کا الزام لگاتے ہیں ان سے میرا سوال ہے کہ جب احسان نسیم سیاسی پارٹیوں کے حق میں اور خان ازم کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے تھے تب تو ہم سے بھی انھوں نے پیسے لیئے ہونگے زرا اس کا ثبوت بھی سامنے لائیں؟
تاکہ قوم کو پتہ لگے کہ واقعی یہ لوگ پیسوں کیلئے کام کرتے ہیں
7 سال تک فی سبیل اللہ میں کوریج حاصل کا بدلہ احسان سے دیا جانا چاہئے تھا مگر یہاں انکو نیکی کا بدلہ بدی میں دیا جا رہا ہے
جہاں تک میرا خیال ہے تو بٹگرام میڈیا روم ضلع بٹگرام کا سب سے بڑا آزاد اور خودمختار ادارہ ہے جس سے نظریاتی پارٹیوں، مذہبی جماعتوں سیاسی جماعتوں سمیت خوانین اور ڈلہ جنبہ کی خبریں شائع ہوتی ہیں مطلب سب کو برابر سپیس مل رہا ہے ایسی صورت میں ان پر یکطرفی کا الزام سمجھ سے بالا تر ہے اور ہاں مزے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ جب ہمارےحق میں خبر لگ جاتی ہے تو میڈیا روم زندہ باد کے نعرے شروع ہوجاتے ہیں مگر اگر انکے خلاف دو لفظ بھی میڈیا روم سے لگ جائے تو درباری کے فتوی شروع ہوجاتے ہیں
میری تحریر کا مقصد حقائق کو سامنے لانا ہے جو میں نے دیکھا اور جس چیز کا مشاہدہ کیا وہ میں نے تحریر میں لکھا اور اسکا مقصد یہ بھی ہے کہ کسی سے زاتیات کی بھڑاس جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے کی بجائے اگر ثبوتوں کیساتھ بات کی جائے تو تب مان لیا جاتا ہے اور ہاں ایک بات جو میں بھول کیا تھا اسے بتانا لازم سمجھتا ہوں کہ بٹگرام میڈیا روم اتنا خود مختار ادارہ ہے کہ چند روز قبل میں نے خود بٹگرام میڈیا روم کیخلاف خبر لکھا اور اسے میڈیا روم والوں کو بھیجا تو دو منٹ کے اندر اندر میڈیا روم کیخلاف خبر خود ہی میڈیا روم سے شائع ہوگیا تو یقین جانیں میں خود حیران ہوگیا اور اس وقت میں نے یہ تسلیم بھی کرلیا واقعی یہ ایک آزاد ادارہ ہے

رہی بات احسان نسیم کی بہادری کی تو کل کس پل احتجاجی مظاہرے میں جب ایف سی اہلکاروں کے سے بدمزگی پیدا ہوئی تو میں نے دیکھا یہ ایف سی اہلکاروں کے رعب کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہا تھا،
مجھے احسان نسیم پر فخر ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صحافت کے ساتھ غریبوں کا بڑا ہی خیال رکھتا ہے، ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا ہے، اور میں تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں اور لیڈرشپ سے اپیل کرتا ہوں کے خدا راہ دوستو کی تعداد میں اضافہ اور دشمنوں کی تعداد میں کمی کرلو دوست کو دشمن نا بناو دشمن کو دوست بناو کیونکہ ہم اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہے
( آپکابھائی یوسف گجبوڑوال)

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں