276

جھالت_کی_فیکٹریاں_مدارس_یایونیورسٹیاں حقیقت_جاننےکےلئےیہ_پوسٹ_ضرورپڑھیں

#جھالت_کی_فیکٹریاں_مدارس_یایونیورسٹیاں
#حقیقت_جاننےکےلئےیہ_پوسٹ_ضرورپڑھیں
مغرب ہنس رہا ہے۔ مشرق کا سورج مغرب میں ڈوب رہا ہے 👀
2010 میں ” لمز یونیورسٹی ” جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک بہت قریبی دوست وہاں طالب علم تھا جناب بولے کہ آئو تمہیں ماحول دکھا کر لائوں۔۔
یونیورسٹی جانا تو اس نے کچھ کاغذات لینے تھا لیکن کچھ ریفریشمنٹ کے لیے
کیفے ایریا میں بیٹھ گیا ۔ دیکھتا کیا ہوں !
کہ ایک ” لڑکی اور ایک لڑکا ” ایک ہی بوتل میں دو سٹرا ڈالے آمنے سامنے بیٹھے مسکراتے ہوئے پی رہے ہیں ۔ کیفے سے باہر آئے تو تھوڑا آگے ایک ہجوم سا بنا ہوا تھا ، دیکھتا ہوں ” دو نوجوان لڑکیاں ” کسی انگلش گانے پر ڈانس کر رہی ہیں ، اور ایک نوجوان لڑکا جو شکل سے لڑکی لگتا تھا اس نے ہاتھ میں ” منی سٹیریو ”
سسٹم پکڑا ہوا ہے ۔
اور خاتون ” سیگریٹ ” پی رہی ہے ۔ میں حیرانگی سے اپنے دوست سے پوچھا
کہ بھائی ہہ کیا ہو رہا ہے ، تو موصوف بولے یہ لڑکی یونیورسٹی کی جان ہے ، یہ روزانہ یونیورسٹی کے اوقات میں ایک سیگریٹ ” گردا ” سے بھرا ہوا پیتی ہے ۔۔۔
اور ایسی بی بی ہے کہ اس کو نشہ بھی نہیں ہوتا ۔۔
جناب یہ تو لمز یونیورسٹی کا ماحول ہے ، لاہور کی ” جی سی یونیورسٹی ”
لاہور کی ” این سی اے ” اور یا پھر یونیورسٹی آف لاہور دیکھ لیں ۔ آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کیا کیفیت ہے یہاں پر تہزیب و تمدن کے اعلی دور کی ۔۔۔۔
میرے والد صاحب ” جناح ہسپتال لاہور ” میں زیر علاج تھے ، جگر کے کینسر کے باعث ان کے کچھ ٹیسٹ ایسے تھے جو اس ہسپتال سے ملحقہ ” علامہ اقبال میڈٰکل کالج ” کی ریسیرچ لیبارٹری سے کروانا پڑتے تھے ۔۔ اب وہاں کیا دیکھتا ہوں۔۔
ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر زور زور سے رو رہی ہے ۔۔
اور ایک نوجوان لڑکا شاید وہ بھی ڈاکٹر تھا اس لڑکی کے ہاتھ پکڑ کر اس کو منا رہا تھا ، اور بول رہا تھا وعدہ آئندہ میں ( فلاں ) لڑکی کے ساتھ کبھی نہیں ملوں گا ۔۔ اور وہ بول رہی تھیں مجھے نہیں پتہ میں یہاں پر تماشہ لگا دوں گی آج ہی چل کر میرے ساتھ کورٹ میرج کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں لاہور میں یونیورسٹیوں کے ایسے طالب علموں کو بھی جانتا ہوں جو تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں ، لیکن وہ ہم جنس پرست ہیں ۔ ایک کی تصویر بھی میرے پاس موجود ہے ۔ اگر آپ اس کی شکل دیکھیں تو وہ پورا باڈی بلڈر نظر آئے گا ۔۔ لیکن حقیقت میں جو کیڑا اس کے اندر ہے وہ شاید آپ کو یقین نہ آئے ۔۔۔۔
” این سی اے ” فنون لطیفہ سے متعلقہ شعبہ ہے ، جس میں پینٹنگ ، ڈانسنگ ، ایکٹنگ اور سنگنگ وغیرہ سیکھلائی جاتی ہیں ۔
آپ اس شعبہ میں جا کر کسی ایک لڑکے یا لڑکی کو دیکھ لیں ، اس نے اپنا ایک آدھ ساتھی سیلیکٹ کیا ہو گا ، اور وہ سیگریٹ ، شراب نوشی عام کرتے ہوں گے۔
یہ میں چیلنج سے کہہ رہا ہوں ۔ کچھ لڑکے اور لڑکیاں چرس اور گردا عام پیتے نظر آئیں گے۔ ان کے جسموں پر نا زیبہ قسم کے ٹیٹو بنے ہوئے ہوں گے ۔۔۔۔
اسلام آباد کی ” قائد اعظم یونیورسٹی ” بھی میں دیکھ چکا ہوں ۔۔ وہاں چلے جائیں آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ مل جائےگا ۔
گزشتہ دو برس پہلے ” پنجاب یونیورسٹی ” کے ایک پروفیسر صاحب کا سکینڈل بھی یاد ہو گا آپ کو جس کو ” کامران شاہد ” نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں بے نقاب کیا تھا کہ کس طرح وہ اپنی سٹڈنٹس کو اپنے روم سے منسلک بیڈ روم میں لے جا کر ان سے نازیبا حرکتیں کرواتا تھا ،
یا پھر ” کامران شاہد ” کا وہ پروگرام جس میں ایک گروہ کو ننگا کیا گیا جو لڑکیوں کے ہاسٹل میں لڑکیوں کی سوتے ہوئے کی ویڈیوز دیکھاتا اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کرتا تھا ۔۔۔۔
دو برس پہلے ” شیخ زید ہسپتال ” کے سامنے “اور برج ” پر ایک نوجوان لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کو قتل کر کے خودکشی کر لی ۔ اور وہ دونوں پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم نکلے ۔۔۔ پتہ چلا کہ لیلہ مجنوں کا سین تھا ۔۔۔۔
ان اداروں میں ” کو ایجوکیشن ” کے نام پر تعلیم حاصل کرتے کرتے نشے ، پیار عشق بے حیائی زنا میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ کتنی نوجوان لڑکیاں اپنے ساتھ پڑھنے والے نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں پریگننٹ ہو گئیں!
( اُٹھاکر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے )
طالب دعا نعیم احمد

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں