294

ڈی ایس پی فرمان علی صاحب نے قیصرانی

ڈی ایس پی بٹگرام سرکل فرمان اختر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے،
انا للہ و انا الیہ راجعون،

ڈی ایس پی فرمان اختر کے ساتھ میری صرف تین ملاقاتیں ہوئی،
پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب بٹگرام میڈیا روم میں شملائی پولیس کے خلاف ایک متاثرہ خاندان پریس کانفرنس کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا، جب میں نے اچانک ڈی ایس پی فرمان اختر کو نفری کے ہمراہ اپنے آفس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو میں ایک لمحے کیلئے میں پریشان سا ہوگیا، ہاتھ ملانے کے بعد ڈی ایس پی فرمان اختر نے خود اپنا تعارف کیا، ان کے ساتھ ایس ایچ او تھانہ بٹگرام وارث خان بھی موجود تھے، ڈی ایس پی نے بٹگرام میڈیا روم پر چلنے والی خبر کا فوری ایکشن لیا تھا، وہ یہاں متاثرہ خاندان کا بیان خود سننے کیلئے آئے تھے، ڈی ایس پی صاحب نے ایک دن کے اندر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا،

میری انکے ساتھ پہلی ملاقات تھی اور وہ بھی میرے آفس میں اوپر سے وقت بھی کھانے کا تھا، میں نے کہا کہ سر کھانا آپ نے میرے ساتھ کھانا ہے وہ کہنے لگے کہ نہیں بیٹا ہمارے لیے پولیس لائن بٹگرام میں دال پک چکی ہے، وہاں جا کر وہی دال کھانا ہے، اگر آپ ہمارے ساتھ چلتے ہیں تو آپکی خاطر یہی کر سکتا ہوں کہ پولیس کنٹین کے دال کو دوبارہ فرائی کروا سکتا ہوں، مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ڈی پی او بٹگرام عبدالراؤف قیصرانی بھی یہی دال کھا رہے ہیں
لیکن میرے بے حد اسرار پر انہوں نے کھانا میرے ساتھ کھایا،
ڈی ایس پی فرمان اختر میں جو سب سے اچھی بات میں نے نوٹ کی تھی جو دوسرے آفیسرز میں قدر کم یا نا ہونے کے برابر ہوتی ہے، وہ یہ تھی کہ ڈی ایس پی صاحب اپنے ماتحت اہلکاروں سے بڑا نرم رویہ رکھتے تھے

کل انکے ساتھ میری آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 302 کے ملزم کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس کر رہے تھے، یہ تصویر اسی پریس کانفرنس کی ہے
مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری انکے ساتھ آخری ملاقات ہوگی،
کل انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا اور بہت ساری دل کی باتیں سنائی، وہ کہہ رہے تھے کہ پولیس کا محکمہ پہلے سے سو گناہ بہتر ہو چکا ہے، رشوت لینے کا رجحان کم سے کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے
وہ کہہ رہے تھے کہ پچھلے ہفتے میں نے بٹگرام کی سردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہری پور سے اپنے لئے گرم بستر بنوانا چاہا پھر خیال آیا اپنے ساتھ ڈی پی او بٹگرام عبدالراؤف قیصرانی صاحب کیلئے بھی بستر بنوا دیتا ہوں جب بستر تیار ہو کر بٹگرام پہنچے میں نے ڈی پی او بٹگرام عبدالراؤف قیصرانی صاحب کو بستر پیش کی،
انہوں نے قمیت دریافت کی میں نے کہا کہ سر یہ میں نے بطور تحفہ آپکو پیش کیا ہے جس پر قیصرانی صاحب نے کہا کہ میں بغیر پیسوں کے اس بستر کو ہرگز قبول نہیں کروں گا، 3 ہزار روپے دینے کے بعد قیصرانی صاحب نے بستر شکریہ ادا کرتے ہوئے بستر قبول کیا،

ڈی ایس پی فرمان علی صاحب نے قیصرانی صاحب کے متعلق ایک اور بات کہی کہ گذشتہ دنوں قیصرانی صاحب نے مجھے آفس بلایا باتوں باتوں میں مجھ پوچھا کہ فرمان علی کیا آپ ادھر اُدھر کسی سے پیسے لیتے ہو؟

میں نے کہا کہ نہیں سر اللہ تعالیٰ جو تنخواہ کی صورت میں رزق حلال دے رہا ہے، وہ میری اوقات سے بڑھ کر ہے، اس پر قیصرانی صاحب نے کہا کہ میں بھی ایسا ہی ہوں،

ڈی ایس پی فرمان اختر کے اچانک وفات سے محکمہ پولیس ایک دیانتدار آفیسر سے محروم ہوگیا، جبکہ ڈسٹرکٹ بٹگرام کے عوام ایک خدا ترس مظلوموں کے ساتھی اور ملنسار طبعیت کے مالک آفیسر سے محروم ہوگئے ہیں،
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے،

احسان نسیم

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں