145

کیا پاکستان کے قانون میں دیت کا مقدار کم کیا گیا ھے؟؟؟

کیا پاکستان کے قانون میں دیت کا مقدار کم کیا گیا ھے؟؟؟

تصویر دیکھ کر شاید کچھ لوگ یہ سمجھیں گے کہ میں سیاسی پوسٹ لکھ رہا ھوں ….. بلکل ایسا نہیں بلکہ میں تو حیران ھوں کہ ہر طرف مھنگائی کا طوفان برپا ہے وہاں پاکستانی قانون کے مطابق دیت تیس لاکھ ہے تو وہ دس لاکھ پر اچانک کیسے آپہنچا ؟؟؟

سی پیک پر کام کرتے ھوئے بھت سارے حادثات رونما ھوتے ہیں ان میں سے کل پرسوں کا ایک واقعہ جن میں ایک جوان شھید تو دوسرا زخمی ھوا تھا آج اس شھید جوان کے ورثاء کو دس لاکھ دیت دیکر راضی کر دیا گیا

کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟؟؟

اس سے پہلے ھوتل دیشان ھڈو کا ایک لڑکا اپنی غلطی کی وجہ سے کنویں میں گر کر جانبحق ھوا تھا تو اس وقت علامہ عطاء محمد دیشانی صاحب کی کوششوں سے ورثاء کو چائنیز کی طرف سے پندرہ لاکھ روپے دلوائے گئے تھے باوجود اس کے کہ غلطی لڑکے کی اپنی تھی

اب جو واقعہ پیش آیا ہے یہ تو چائنیز کی طرف سے ہے یعنی قتل ہے اب اس قتل کی دیت پاکستانی قانون کے مطابق تیس لاکھ ھونی چاھئیے لیکن یہاں تو ورثاء کو تحصیل ناظم کی طرف سے دس لاکھ دئیے جارہے ہیں

آخر ماجرہ کیا ہے ؟؟

علامہ دیشانی صاحب بغیر عھدے کے پندرہ لاکھ دلواسکتے ہیں تو جو ضلع وتحصیل کے بادشاہ بنے ہیں وہ پوری دیت کیوں نہیں دلوا سکتے؟ ؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ چائنیز سے دیت پوری لی ہو اور ورثاء کو تیس کے بجائے دس لاکھ پر ٹرخایا جا رہاھو اللہ نہ کرے ایسا ھو لیکن ممکن ہے کہ اہسا ھو بھی

ہاں اگر واقعی چائنیز سے دس لاکھ ملے ہیں تو ضلعی انتظامیہ اور ضلع و تحصیل ناظمین مع کل ارکان کے بقایا بیس لاکھ کیلئے چائنیز سے مطالبہ کریں یہ ورثاء کا حق ہے اوریہ حق انکو دینا ان سب کی ذمہ داری ہے

اگرمطالبہ نہیں کیا جائے گا اور ورثاء کو دس لاکھ دیکر ڈرا دھمکا کر معاملہ رفع دفع کی گئی ہے تو صاف سی بات ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی نظر آرہی ہے

سیاست سے ھٹ کر بٹگرام کے سوشل ورکر اس موضوع کو آگے بڑھائے تاکہ مقتول کے ورثاء کو بقایا بیس لاکھ روپیہ اداکی جا سکے کیونکہ یہ ورثاء کا حق ہے اور اس حق کو کوئی دبا نہیں سکتا

ابو مصعب الدیشانی

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں