325

سانحہ 8 اکتوبر 2005

سانحہ 8 اکتوبر 2005

میری کہانی میری زبانی
احسان نسیم
امریکہ میں ڈرائیور کی ملازمت کرنے والا بٹگرام گاؤں اجمیرہ کا رہائشی احسان اللہ نامی شخص کی لاٹری نکل آتی ہے جو ان کی زندگی کا کایا پلٹ دیتی ہے ، چند سو ڈالر کے عوض کام کرنے والا احسان اللہ لاٹری نکلنے کے بعد عرب پتی بن جاتا ہے، وہ لاٹری نکلنے کے بعد امریکہ کو چھوڑ کر پاکستان آتا ہے اور مقامی سیاست میں حصہ لیکر ڈالروں کے بل بوتے پر بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیتا ہے،
7 اکتوبر کی شام انکی جانب سے مقامی صحافیوں کے اعزاز میں افطار پارٹی منعقد کی جاتی ہے جس میں مجھ سمیت مقامی صحافی برادری شرکت کرتی ہے، افطار کے بعد میں نے ڈسٹرکٹ ناظم احسان اللہ خان کی اسٹوری اخبارات کو بھیجنی تھی، اس زمانے میں ای میل کا رجحان کم اور فیکس کا زیادہ ہوا کرتا تھا، اس لیے اچھا خاصہ ٹائم ضائع ہو جاتا تھا،
قصہ مختصر خبریں اخبارات کو بھجوانے کے بعد کافی دیر سے گھر پہنچا، صبح تھوڑی دیر سے اپنے دوکان پر گیا، اور اخبارات چھانٹی کرنے لگا کہ خبر کس نوعیت کی لگی ہے، اخبارات کے چھانٹی عمل کے دوران ہی زمین ہلنے لگی ایک لمحے کیلئے خیال کیا کہ معمولی جھٹکا ہوگا لیکن زلزلے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا، ڈر کے مارے میں ایسے دوڑا کہ چپل پہنے کا خیال تک نہیں آیا، بٹگرام شہر کے آس پاس گاؤں میں چونکہ کچے مکانات بھی بڑی تعداد میں تھے جو زلزلے کے جھٹکوں سے گر گئے جس کے باعث گاؤں سے دھول کے بڑے بڑے گولے اٹھنے لگے، ہر طرف افراتفری کا سما تھا، لوگ کلمہ طیبہ کے ورد کرنے لگے، نفسا نفسی کا عالم تھا، چند منٹ کے بعد زلزلے میں زخمی افراد کو چارپائیوں کی مدد سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بٹگرام کی طرف لایا دیکھا گیا، جس سے یقین پختہ ہوگیا کہ زلزلے سے کافی جانیں نقصان ہوا ہے ، اتنے میں ایک لڑکا جو رو رہا تھا یہ کہتے ہوئے کہ اسکول کے بچے کس حال میں ہونگے یہ سنتا کہ چھوٹے بھائی یاد آ گئے میں رونے لگا لیکن خوف اور ہراس کا یہ عالم تھا کہ میں اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا تھا،
اب دل پر اس بات نے قبضہ کر لیا کہ بھائی کس حال میں ہونگے
خوف نے اس قدر جھکڑا ہوا تھا کہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا تھا،
تھوڑی دیر بعد اسکول کے بچے ڈرے سہمے ہوئے اور کچھ روتے ہوئے شہر کے در و دیوار کو دیکھتے ہوئے گرزنے لگے جس اسکول میں بھائی پڑھتے تھے اس اسکول کے ایک طالب علم سے پوچھا کہ بھائی آپ کے اسکول میں بچے کس حال میں ہیں
اس نے کہا کہ ہمارے اسکول کے سارے بچے محفوظ رہے ہیں
اس کے بعد اتنی ہمت نہیں تھی کہ جاکر دوکان کا شلٹر بند کرتا اور دوکان کے سامنے کھڑی بائیک لیکر گھر کیلئے روانہ ہو جاتا، اتنے میں میرا جگری دوست اسفندیار خان جو کالج سے واپس آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ بائیک پر سوار ہو گیا،
دوکان کھلی چھوڑ کر بغیر چپلوں کے دوست کے ساتھ گھر کیلئے روانہ ہوا، اس دن زبان پر بس اللہ تعالیٰ کا ہی زکر تھا، راستے پر جاتے ہوئے جو مناظر دیکھنے میں آئے انتہائی درد ناک وکرب ناک تھے زلزلے میں زخمی افراد کو سڑک کے کنارے لایا جا رہا تھا تاکہ انہیں ہسپتال منتقل کیا جا سکے، لیکن اس قیامت خیز منظر میں گاڑیوں والے افراد بھی گھر کی راہ لئے تیزی کے ساتھ جا رہے تھے، اس لیے زخمی افراد سڑک کے کنارے نیم مردہ حالت میں پڑے درد سے چیخ رہے تھے،
جب ہم دونوں کس پل کے مقام پر پہنچے تو وہاں لینڈ سلائیدنگ کی وجہ سڑک بند پڑی تھی، جب قریب گئے تو موٹر-سائیکل والے افراد سڑک پر گرے مٹی کے تودوں کے اوپر سے موٹرسائیکل کو اٹھا کر اس پار لے جا رہے تھے ہم دونوں نے بغیر ٹائم ضائع کیے اپنے بائیک کو اٹھا کر اس پار کر دیا، اور گھر کیلئے روانہ ہوگئے جب ہم کیارگلی کس کے مقام پر پہنچے تو وہاں ڈاٹسن سڑک کے درمیان کھڑی تھی جس پر ایک بہت ہی بڑا چھٹان پہاڑ سے آ گرا تھا، غالباً ڈرائیور گاڑی کے اندر تھا کیونکہ ڈرائیور کے سیٹ کے نیچے خون سڑک پر موجود تھا
جب جان کے لالے پڑے ہو اس وقت خدمت خلق کرنا یقیناً بڑا ہی مشکل کام ہوتا ہے ہم اس ڈرائیور کو اسی حالت میں چھوڑ کر آگے گزر گئے
جب گاؤں پہنچے تو میں بغیر چپل کے تھا دوسرے محلے کی ایک خاتون تھی جس نے مجھے پہچان لیا اس نے میری حالت دیکھی اور کہا کہ بیٹا یہ لو چپل اور پریشان نہیں ہونا ہمارے پورے گاؤں میں صرف ایک خاتون دیوار کی زد میں آکر جانبحق ہوئی ہے باقی مالی نقصان تو ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے گاؤں کو مزید جانی نقصان سے بچایا ہے،
اس خاتون کے چپل پہن کر میں اپنے محلے کے حجرے پہنچا تو پورے محلے کے چھوٹے بڑے بوڑھے سب مسجد کے صحن میں جمع تھے مجھے اس حالت میں دیکھ کر محلے کے ساتھی کہنے لگے پریشان نہ ہو اللہ تعالیٰ نے سب کو بچایا ہے،
وہ پورا دن مسجد کے صحن میں ذکر و اذکار کرتے ہوئے گزرا
اس دوران وقفے وقفے سے خبریں آتی رہتی کہ فلاں علاقے میں اتنی اموات ہوئی ہے فلاں گاؤں صفا ہستی سے مٹ گیا،
8 اکتوبر کا پورا دن اور رات وقفے وقفے سے زلزلے کے جھٹکے آتے رہے، مغرب افطار کے وقت ایک ایسی آندھی و طوفان آیا جس سے کھیتوں اور کھلے میدانوں میں بیٹھے روزہ داروں کی افطاری مٹی دُھول سے بھر گئی، شاید ہی کسی نے روزہ افطار کیا ہو،
اگلے دن جب ڈرتے ڈرتے شہر آیا تو دیکھا کہ زخمیوں سے پورا ایک نیا شہر آباد ہو گیا ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جو زخمی ہوئے تھے، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے باہر کھلے میدان میں پڑے تھے، کیونکہ ہسپتال زلزلے سے گر چکا تھا

آج پھر 8 اکتوبر کا ہیبت ناک دن ہے جس کا نام سن کر میرے بدن پر پھر سے خوف و ہراس کے بادل منڈلا رہے ہیں

اللہ تعالیٰ کی پناہ ایسی بھیانک تاریک ترین دن ہے

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں