711

گوادر ۔ اقتصادی راہداری اور 10 مزدوروں کا قتل


مظہر حسین سید
گوادر پاک چین راہداری کے اقتصادی منصوبے کے حوالے سے اہم ترین صوبے بلوچستان کا اہم ترین شہر ہے ۔ اس منصوبے پر زور و شور سے کام جاری ہے اور اسے علاقے میں گیم چینجر کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ اس اقتصادی منصوبے کے نتائج کیا برآمد ہوں گے اور کیا یہ واقعی پاکستانی عوام کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے پاکستانی عوام کے لیے فی الحال ” ہنوز دلی دور است ” والی صورتحال ہی نظر آ رہی ہے ۔ پاکستان میں بے روزگاروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو روزگار کی تلاش میں دربدر دھکے کھا رہی ہے ۔ پاکستان میں روزگار کی عدم فراہمی کے باعث یہ محنت کش سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں قسمت آزمائی کرتے ہیں ۔ لیکن وہاں کی زوال پذیر معاشی صورتحال کے باعث اب وہاں کام کا حصوم مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر کام ملتا بھی ہے تو انتہائی کم اجرت پر ، اوقاتِ کار انتہائی طویل ہیں اور کام کا ماحول شدید تکلیف دہ ہے ۔ اس پر اجرتوں کی ادائیگی بھی یقینی نہیں ہوتی ۔ لیبرز لاز اور مزدور یونینز کی عدم موجودگی کے باعث ان مسائل پر آواز اُٹھانا بھی ممکن نہیں ۔۔ پاکستان میں روزگار کے حصول کے لیے محنت کشوں اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوردراز کے علاقوں تک جانا پڑتا ہے ۔ جس سے ان کی اجرت کا زیادہ حصہ اسی ہجرت کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے ۔ گوادر میں 10 غریب سندھی مزدروں کے قتل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت محنت کشوں کے تحفظ میں کتنی سنجیدہ ہے ۔ اگر حکومت اپنے اہم ترین منصوبے پر مزدوروں کے تحفظ میں ناکام اور غیر سنجیدہ ہے تو دیگر اداروں اور منصوبوں پر کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔ ان مزدوروں کی لاشیں جب اپنے گھروں میں پہنچی ہوں گی تو اُن گھرانوں پر کیا قیامت ٹوٹی ہو گی یہ بات ہمارے حکمران کبھی نہیں سمجھ سکتے ۔ گھروں سے روزگار کی تلاش میں نکلنے والے اپنی جانیں گنوا کر واپس لوٹے ۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قتل کی ذمہ داری مسلح قوم پرست گروپ ” بلوچ لبریشن آرمی ” نے قبول کر لی ہے ۔ اور حملے کا بنیادی مقصد سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا بتایا ہے ۔جہاں ایک طرف حکومتی بے توجہی اور ظالمانہ نظام غریب محنت کشوں کا دشمن بنا ہوا ہے ۔ وہیں یہ مسلح گروہ بھی ان بے بس مزدوروں کے خون سے اپنی نام نہاد قوم پرستی کی پیاس بجھا رہے ہیں ۔ غریب محنت کشوں اور عوام کو کہیں جائے پناہ میسر نہیں ہے ۔ پاکستان کا حکمران طبقہ تقسیم کے بعد سے لے کر اب تک عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔ حکمرانوں نے اپنے علاقوں کو کسی قدر ترقی دی اور عوام کی لعن طعن سے بچنے کے لیے کسی قدر بہتر انتظامی ڈھانچہ بنانے کی کوشش بھی کی ۔ لیکن جہاں ان کے مفادات نہیں تھے ۔ وہاں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور لوگ انتہائی پسماندگی میں زندگی بسر کرتے رہے اور ابھی تک اسی زبوں حالی میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اس طرح ملک کے مختلف حصّوں میں ناہموار ترقی نے علاقائی سطح پر قومیت کا احساس پیدا کیا جس بنیاد احساس محرومی پر تھی اور جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم تھا ۔ یہ کیفیت ایک سیاسی تحریک و تنظیم کی متقاضی تھی ۔ اگر یہ جدوجہد سیاسی انداز میں آگے بڑھتی اور محروم طبقات اور غریب عوام کو ساتھ جوڑتے ہوئے اس نظام کی تبدیلی کے لیے آواز بلند کرتی تو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر سکتی تھی ۔ لیکن بلوچستان میں اس تحریک نے عوامی سیاسی انداز اپنانے کے بجائے تنگ نظر قوم پرستانہ نکتہ نظر اپنایا اور اس میں مسلح گروہ شامل ہو گئے ۔ اسی تنگ نظر متعصبانہ قوم پرستی کے زیرِ اثر کبھی پنجابی مزدوروں کو قتل کیا گیا اور کبھی دہشت گردی کی کاروائیاں کی گئیں ۔ جس سے ریاست کو حقیقی سیاسی تحریک کو کچلنے کا جواز فراہم کیا گیا ۔ یہ تنگ نظر اور متعصب قوم پرست گروہ بلوچستان میں موجود حقیقی عوام کی آواز کبھی نہیں ہو سکتے ۔ ہاں حقیقی سیاسی تحریک کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ضرور ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گمراہ کن دہشت گردانہ کاروائیوں سے حکومت کے جبر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ اور محروم طبقات تنگ نظر قوم پرستی میں بٹ کر بے معنی لڑائیوں میں الجھ گئے ہیں ۔ اور اپنے حالات کو بدلنے اور مسائل پر قابو پانے کی حقیقی سیاسی جدوجہد سے دور ہو رہے ہیں ۔ 10 سندھی مزدوروں کے قتل کے بعد اس عمل کی بھرپور مذمت کی گئی ہے ۔ اور جو دانشور اس سے پہلے اس تحریک کے حوالے سے کسی قدر نرم گوشہ رکھتے تھے انھوں نے بھی کھل کر اسے صریحاََ دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے ۔ اور اس کی مذمت کی ہے ۔ حکومت کے لیے اور بڑے میڈیا چینلز کے لیے تو شاید مزدوروں کا قتل کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ۔ اسی لیے انھوں نے اس پر زیادہ وقت ضائع نہیں کیا ۔ ان مزدوروں کی قتل کی ذمہ دار جہاں بلوچ لبریشن آرمی ہے وہیں حکومت بھی اس میں برابر کی شریک ہے ۔ کیونکہ یہ بلوچستان میں مزدوروں پر پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ جن میں مزدوروں کو بے رحمی سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا ۔ اور اس سے ایک دن قبل ہی مستونگ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے ۔ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اسے چاہئیے کہ ان قتل ہونے والے مزدوروں کے خاندانوں کے لیے امداد کا اعلان کرے ۔ مزدوروں کو کام کی جگہوں پر مکمل تحفظ فراہم کرے اور محنت کشوں کو ان کے اپنے علاقوں میں روزگار فراہم کرنے کی پالیسی اپنائے ۔ یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ گوادرمیں کام کرنے کے لیے اندرون سندھ سے مزدوروں کو کیوں لایا گیا ۔ کیا بلوچستان میں بیروزگاری کا خاتمہ کر دیا ہے اور وہاں کام کے لیے مزدور دستیاب نہیں ہیں ؟؟ حکومت اور متعلقہ اداروں کی انھیں ناقص پالیسیوں نے بلوچستان میں نفرت ، تعصب اور احساس محرومی کی آگ پر تیل ڈالا ہے ۔ اگر اب بھی درست اقدام نہ اُٹھائے گئے اور محنت کشوں کو اس آگ کا ایندھن بنایا گیا تو یہ آگ بہت جلد حکمرانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

گوادر ۔ اقتصادی راہداری اور 10 مزدوروں کا قتل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں