847

اپنا گریبان چاک..تعصب کے مارے لوگ


نازیہ حیات
عباسی دور خلافت میں ایک خلیفہ گزرا ہے جو متوکل باللہ کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے خدا ہونے یا خدا کے مقرب ہونے کا دعوی کر دیا چونکہ صاحب اقتدار بھی تھا خاصی بڑی تعداد میں لوگ پیرو کار بھی ہو گئے اب متوکل سیاہ سفید پر قادر تھا وہ جھوٹ بولتا غلط کہتا اور کرتا لوگ آمنا صدقنا کہتے ساتھ ہاتھ باندھ کے تعظیم بھی دیتے…. ایک دن کسی فوج کا سربراہ متوکل سے ملنے آیا وہ دونوں قلعے کی دیوار پہ سیر کر رہے تھے قلعے کے میناروں میں حفاظتی دستے کے سپاہی کھڑے تھے مہمان نے پوچھا تم یہ لوگ تم سے کس قدر وفادار ہیں متوکل نے کہا آو دکھاتا ہوں متوکل نے پہلے مینار پر کھڑے سپاہی کو چھلانگ مارنے کا اشارہ کیا سپاہی بلاترد ایک لمحہ کی تاخیر کیے بنا کود گیا اسی طرح یکے بعد دیگرے چھے سپاہی مینار سے کود گئے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر……..!یہ منظر دیکھ کر مہمان نے پوچھا اتنی جا نثاری کا جذبہ کہاں سے آیا تو متوکل نے جواب دیا کہ ان کے دماغوں کو اپنے کنٹرول میں کرو اور پھر ان کے دماغوں پہ راج کرو اور کھیل دیکھواس جملے کو اگر آج کی صورتحال پر ممکن کیا جائے تو بلا شبہ ہر چیز واضح نظر آئے گی سیاسی پارٹیاں ہوں مذہبی جماعتیں ہوں یا پھر دہشتگردی کی تنظیمیں ، یہ عام فہم اور سادہ لوگوں کی برین واشنگ کرتے ہیں کنٹرول کرتے ہیں اور پھر اپنے اشاروں پہ نچواتے ہیں اس سارے کھیل میں عام شخص خود کو قربانی کے ہر جذبے کے لیے تیار کر لیتے ہیں پھر چاہے ان کے آقا ان کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے آگ میں جھونکیں ،پہاڑ سے چھلانگ لگوادیں، یا کھائی میں دھکا دیں یہ سادہ لوگ بخوشی و با رضا تیار ہو جائیں گے مگر ان کے آقاوں کے لیے یہ کیڑے پتنگوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے……. سوائے چند تعزیتی کلمات سے زیادہ کی اہمیت نہیں ہے… سا نحہ ماڈل ٹاؤن میں مرنے والے لوگ ہوں یا عمران خان کے جلسہ ملتان میں میتیں اٹھیں نواز شریف کی بھٹیوں میں جلیں یا پی پی کے سانحہ بارہ مئی میں زندگی کے دیے بجھ جائیں عوامی جگہوں میں پٹھنے والا خود کش بمبار ہو یا اسکے نتیجے میں مرنے والے عام لوگ سب کی جانیں بے مول ہیں سب کا خون ارزاں ہیں کیونکہ یہ غریب کا بچہ ہے عام آدمی کا خون ہے یہاں پہ ہزاروں کے قاتل احسان اللہ احسان کو ریاست اور ریاستی ادارے اپنے تحفظ میں لے لیتے ہیں یہاں گلو بٹ کی ضمانت ہو جاتی ہے یہاں طاہر القادری ماڈل ٹاؤن کے سانحہ کو بھول کر کینیڈا سدھار جاتے ہیں اور عمران خان نیا جلسہ نیا سٹیج سجا لیتے ہیں یہاں بھٹو اور بی بی کے خون کی قیمت تو عشروں سے وصول کی جاتی ہے مگر سانحہ بارہ مئی کا خون خاک میں مل جاتا ہے………..!اس سب کے باوجود ہم سب مینار پہ کھڑے سپاہی کی طرح اشارے کے منتظر ہیں کہ کب اشارہ ہو اور ہم چھلانگ لگا دیں ہم ہی ہیں جو پانامہ لیکس کے باوجود نواز شریف کا دفاع کرتے ہیں ہم ہی ہیں جو حکومت کی رشوت ستانی مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے جھوٹے دعوؤں کے باوجود غلط صیح سے قطع نظر حامی بھی تاویلیں بھی گھڑتے ہیں اور ایک اشارے پہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ہم ہی ہیں جو عمران خان کے تمام یوٹرن غلط فیصلوں اور طالبائنزیشن کی سوچ کے باوجود صفائیاں دیتے ہیں پیپلزپارٹی کی تمام بد عنوانیوں کے باوجود جیالا کٹ مرنے کے لیے تیار ہے یہی حال مذہبی جماعتوں اور مدارس کا بھی ہے فرقہ واریت کی بنیاد بنا کر ہم ہی سے ایک دوسرے کے گلے کٹوائے جاتے ہیں ہم ہی مار رہے ہیں ہم ہی مر رہے ہیں بقول شاعرکوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی…ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں ان مذہبی منافرت پھیلانے والے علماء کی روزی روٹی کا سوال ہے یہ منافرت اور ہم ایک دوسرے کا گریبان چاک کر رہے ہیں ہم ایک خدا ایک نبی ایک کتاب پر متفق کیوں نہیں ہوجاتے ہم سوچتے کیوں نہیں ہے ہم کسی بات کو کسی فکر کو پرکھتے کیوں نہیں ہیں ہم نے اپنی خرد کہاں گروی رکھ دی ہے ہم ہمارے بچوں کے دماغوں پر کسی کی اجارہ داری کیوں برداشت کر رہے ہیں دہشتگردی میں خودکش بمبار کی اکثریت بارہ سال سے سترہ سال کی عمر کے بچے کیوں ہوتے ہیں ہم سوچ اور غور خوض کے معاملے میں سہل پسند کیوں واقع ہوئے ہیں آئیے سوچیں آئیے اپنے بچوں کو اس جکڑپن سے آزاد کروائیں آئیں اپنے خرد کا خراج وصول کرنے والوں کو پہچانیں اور گروی رکھی خرد افروزی کی راہ نکالیں

Comments

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں